بیربل کی دانائی
बीरबल
بیربل شہنشاہ اکبر کے دربار کا سب سے دانا وزیر تھا۔ ایک دن اکبر نے فرش پر ایک لکیر کھینچی اور دربار کو چیلنج کیا کہ اسے بغیر چھوئے یا مٹائے چھوٹا کر کے دکھائیں۔ تمام درباری حیران و پریشان ہو گئے۔ کوئی بھی یہ نہ سمجھ سکا کہ لکیر کو مٹائے بغیر چھوٹا کیسے کیا جائے۔ بیربل مسکرایا اور آگے بڑھا۔ اس نے اکبر کی لکیر کے بالکل ساتھ ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ اب اکبر کی لکیر موازنے میں چھوٹی نظر آنے لگی، حالانکہ کسی نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ اکبر بہت خوش ہوا۔ ایک اور موقع پر اکبر نے پوچھا کہ دنیا میں سب سے تیز کیا چلتا ہے۔ کسی نے گھوڑا کہا، کسی نے ہوا، اور کسی نے تیر۔ بیربل نے جواب دیا کہ سب سے تیز تو من چلتا ہے۔ ایک ہی لمحے میں من کہیں بھی پہنچ سکتا ہے — بچپن کی یادوں میں، دور دراز دیاروں میں، یا تصوراتی مستقبل میں۔ کوئی گھوڑا یا ہوا اتنی تیزی سے سفر نہیں کر سکتی۔ اکبر نے اتفاق کیا اور کہا کہ بیربل کی دانائی واقعی بے مثال ہے۔ بیربل کی ذہانت آج بھی لوگوں کو تخلیقی سوچ کی ترغیب دیتی ہے۔
سبق
کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے، اسے ایک نئے اور تازہ نقطہ نظر سے دیکھیں۔