رام سیتو
राम
بھگوان رام کو ماتا سیتا کو بچانے کے لیے لنکا پہنچنا تھا، مگر راستے میں ایک وسیع سمندر حائل تھا۔ رام نے تین دن تک سمندر کے دیوتا سے راستہ دینے کی التجا کی، لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ جب رام نے غصے میں اپنا طاقتور تیر اٹھایا تو سمندر کے دیوتا نمودار ہوئے اور انہوں نے مشورہ دیا کہ نل اور نیل نامی دو بندر ایک پل تعمیر کر سکتے ہیں۔ نل اور نیل کو ایک خاص برکت حاصل تھی — جس بھی پتھر پر وہ رام کا نام لکھ کر پانی میں ڈالتے، وہ ڈوبتا نہیں بلکہ تیرنے لگتا۔ پوری بندر سینا مل کر کام میں جٹ گئی۔ یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی گلہریاں بھی مدد کے لیے آ پہنچیں۔ وہ ریت میں لوٹتیں اور پھر پل پر آ کر اسے جھاڑ دیتیں۔ رام کو گلہریوں کی یہ لگن اتنی پسند آئی کہ انہوں نے پیار سے ایک گلہری کی پیٹھ پر اپنی انگلیاں پھیریں — اور یہی وجہ ہے کہ آج تک گلہریوں کی پیٹھ پر تین دھاریاں پائی جاتی ہیں۔ پانچ دنوں میں ایک شاندار پل مکمل ہو گیا۔ پوری سینا اس پل سے گزر کر لنکا پہنچی۔ یہ پل رام سیتو کے نام سے مشہور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس قدیم پل کے آثار آج بھی ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سمندر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
سبق
کوئی بھی مدد چھوٹی نہیں ہوتی — ہر تعاون اہمیت رکھتا ہے۔