Ramagya
📚

سرسوتی کا علم کا تحفہ

सरस्वती

ابتدائے تخلیق میں، جب برہما نے یہ دنیا بنائی، تو ہر طرف صرف افراتفری تھی۔ نہ کوئی زبان تھی، نہ موسیقی، نہ علم۔ مخلوقات ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتی تھیں۔ سب کچھ بے ترتیب اور خاموش تھا۔ پھر برہما نے اپنی الہٰی قوت سے دیوی سرسوتی کو وجود بخشا۔ سرسوتی سفید لباس میں ملبوس، کمل پر براجمان، اپنے ہاتھوں میں وینا تھامے ظاہر ہوئیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں کتاب تھی اور دوسرے میں مالا۔ جیسے ہی انہوں نے اپنی وینا کے تار چھیڑے، دنیا میں پہلی بار آواز گونج اٹھی۔ اس الہٰی موسیقی سے دریا بہنے لگے، پرندے گانے لگے، اور میٹھی سریلی دھنیں فضا میں گھل گئیں۔ سرسوتی نے مخلوقات کو زبان کا تحفہ دیا تاکہ وہ اپنے خیالات بیان کر سکیں۔ انہوں نے انہیں رسم الخط عطا کیا تاکہ علم کو تحریر میں محفوظ کیا جا سکے۔ انہوں نے دنیا کو فن، موسیقی اور سائنس کی نعمت سے نوازا۔ یہی وجہ ہے کہ سرسوتی کو علم کی دیوی کہا جاتا ہے۔ بسنت پنچمی کے دن ہم سرسوتی کی پوجا کرتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنے کا عزم کرتے ہیں۔

سبق

علم سب سے بڑی دولت ہے — یہ بانٹنے سے بڑھتا ہے۔