شیو اور شکاری
शिव
ایک غریب شکاری جنگل میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ شکار کی تلاش میں بہت دور نکل گیا۔ شام ہو گئی اور اندھیرا چھا گیا۔ جنگلی جانوروں سے بچنے کے لیے وہ ایک بیل کے درخت پر چڑھ گیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ اسی درخت کے نیچے ایک شِوَلِنگ موجود ہے۔ شکاری ساری رات جاگتا رہا تاکہ گر نہ پڑے۔ گرمی پانے کے لیے وہ بیل کے پتے توڑ توڑ کر نیچے گراتا رہا۔ وہ پتے سیدھے شِوَلِنگ پر گرتے رہے۔ ٹھنڈ کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو بھی اس مقدس پتھر پر ٹپکتے رہے، جیسے جل چڑھایا جا رہا ہو۔ انجانے میں شکاری نے ساری رات بھگوان شِو کی مکمل پوجا کر دی — بیل کے پتے چڑھائے، جل ارپن کیا، اور رات بھر جاگ کر پہرہ دیا۔ صبح ہوئی تو بھگوان شِو اس کے سامنے پرگٹ ہوئے۔ شکاری ڈر گیا اور اس نے ہاتھ جوڑ لیے۔ شِو نے مسکرا کر کہا کہ شکاری نے انجانے میں سچی پوجا کی ہے۔ شِو نے شکاری کو آشیرواد دیا اور اس کے تمام پاپ معاف کر دیے۔ یہ کہانی مہاشِوراتری کے تہوار سے جڑی ہے، جب بھکت ساری رات جاگ کر بھگوان شِو کی عبادت کرتے ہیں۔
سبق
خدا سچی عقیدت کو قبول کرتا ہے، چاہے وہ انجانے میں ہی کیوں نہ پیش کی گئی ہو۔