Ramagya
💙

شیو نے زہر پیا

शिव

سمندر کے منتھن کے دوران، جب دیوتا اور دانو مل کر کام کر رہے تھے، سب سے پہلے جو چیز ظاہر ہوئی وہ ایک ہولناک زہر تھا۔ اس زہر کو ہلاہل کہا جاتا تھا۔ یہ اس قدر طاقتور تھا کہ اس کی تپش نے پوری دنیا کو جھلسانا شروع کر دیا۔ درخت مرجھا گئے، ندیاں سوکھ گئیں، اور جاندار تڑپ تڑپ کر بے حال ہو گئے۔ دیوتا اور دانو دونوں خوف سے کانپ اٹھے۔ اس مہلک زہر کو سنبھالنے کی طاقت کسی میں نہ تھی۔ سب مل کر بھگوان شیو کے پاس دوڑے اور ان سے مدد کی التجا کی۔ شیو نے ایک لمحہ بھی نہ سوچا اور دنیا کو بچانے کا فیصلہ کر لیا۔ بھگوان شیو نے ہولناک ہلاہل زہر کو اپنی ہتھیلی میں لیا اور سارا پی گئے۔ دیوی پاروتی نے فوراً ان کا گلا دبا لیا تاکہ زہر پیٹ میں نہ اتر جائے۔ زہر ان کے گلے میں ہی رک گیا اور اس نے گلے کو گہرے نیلے رنگ میں رنگ دیا۔ اسی لیے شیو کو نیل کنٹھ کہا جاتا ہے، یعنی نیلے گلے والے۔ شیو نے اپنی جان کی ذرا بھی پروا کیے بغیر پوری دنیا کو بچا لیا۔ ان کی یہ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر اپنے اوپر لے لے۔

سبق

ایک سچا رہنما دوسروں کی حفاظت کے لیے مصیبتیں برداشت کرتا ہے۔