تینالی راما کی ذہانت
तेनाली रामा
تینالی راما وجے نگرا کے راجہ کرشنا دیوا رایا کے دربار کا سب سے ذہین وزیر تھا۔ ایک بار راجہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ دنیا میں سب سے عظیم چیز کیا ہے۔ کچھ نے پہاڑوں کا نام لیا، کچھ نے سمندر کا، اور کچھ نے آسمان کا۔ تینالی راما خاموش رہا۔ اگلے دن تینالی راما دربار میں ایک چھوٹا سا چراغ لے کر آیا۔ راجہ نے پوچھا کہ وہ اسے کیوں لایا ہے۔ تینالی نے کہا کہ راجہ نے پوچھا تھا کہ سب سے عظیم چیز کیا ہے۔ اس کا جواب ہے اندھیرا۔ اندھیرا اتنا وسیع ہے کہ پوری دنیا کو ڈھانپ سکتا ہے۔ پھر بھی ایک چھوٹا سا چراغ اس اندھیرے کو شکست دے سکتا ہے۔ راجہ نے پھر پوچھا کہ ان دونوں میں سے زیادہ طاقتور کون ہے — اندھیرا یا روشنی۔ تینالی نے جواب دیا کہ نہ اندھیرا سب سے عظیم ہے اور نہ روشنی۔ سب سے عظیم چیز علم ہے۔ علم کا چراغ ذہن کے اندھیرے کو دور کر دیتا ہے۔ جہالت کا اندھیرا سب سے بھیانک ہے، اور علم کی روشنی سب سے طاقتور ہے۔ راجہ کرشنا دیوا رایا تینالی کی دانشمندی سے بہت خوش ہوا اور اسے فراخ دلی سے انعام سے نوازا۔
سبق
علم کی روشنی جہالت کی گہری سے گہری تاریکی کو بھی دور کر سکتی ہے۔