Ramagya
🦇

وکرم اور بیتال

विक्रमादित्य

راجہ وکرمادتیہ ایک منصف اور بہادر حکمران تھے۔ ایک تانترک نے انہیں کہا کہ وہ شمشان گھاٹ میں ایک درخت سے لٹکتی ہوئی روح، بیتال، کو لے کر آئیں۔ وکرم نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ وکرم رات کے وقت اندھیرے شمشان گھاٹ میں گئے۔ انہوں نے بیتال کو درخت سے اتارا اور اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ بیتال نے ایک شرط رکھی — وہ راستے میں ایک کہانی سنائے گا اور آخر میں ایک سوال پوچھے گا۔ اگر وکرم جواب جانتے ہوئے بھی خاموش رہے تو ان کا سر پھٹ جائے گا۔ لیکن اگر وکرم بول پڑے تو بیتال واپس درخت پر اڑ جائے گا۔ بیتال نے ایک دلچسپ کہانی سنائی اور ایک مشکل سوال پوچھا۔ وکرم کو جواب معلوم تھا اور انہیں بولنا پڑا۔ بیتال واپس درخت پر اڑ گیا۔ وکرم پھر گئے، بیتال کو پھر لے آئے، ایک اور کہانی سنی، ایک اور سوال سنا۔ یہ سلسلہ پچیس بار دہرایا گیا۔ ہر بار بیتال نے ایک نئی کہانی سنائی جو دھرم، انصاف اور دانائی کو پرکھتی تھی۔ آخرکار پچیسویں کہانی پر وکرم خاموش رہے اور بیتال کو کامیابی سے اپنی منزل تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔

سبق

صبر اور استقامت سے ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔